ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔
اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیر معمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
چھٹی خصوصیت: خواتین کا کردار
خواتین کے حقیقی اور درست مقام پر توجہ دینے کے حوالے سے رہبر شہید نے ایک تاریخی معیار قائم کیا۔ انہوں نے فرمایا:"مرد کے مقابلے میں عورت کے باہمی حقوق کو دیکھیے کہ قرآن کریم نے عورت اور مرد کے درمیان، بطور مؤمن، بطور انسان، اور بطور ایک باوقار فرد، مکمل مساوات قائم کی ہے۔ اسلام کی نظر میں عورت سماجی سرگرمیوں، معاشی میدان، سیاسی سرگرمیوں، حکومتی مناصب کی اکثریت، اور زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔"
ایک اصولی فقیہ اور ایران کے حکمران کی زبان سے اس طرح کے الفاظ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اپنی آخری تقاریر میں سے ایک میں انہوں نے فرمایا:"معاشرے میں خواتین کے حقوق محفوظ ہونے چاہییں، امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ آج بھی امتیاز موجود ہے۔ مغربی ممالک میں بھی ایک ہی کام کے لیے خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ خواتین کو ان کے کام کے بدلے مردوں کے برابر معاوضہ ملنا چاہیے، حکومتی سہولتوں میں مساوی حقوق حاصل ہونے چاہییں، جیسے ملازم خواتین کے لیے بیمہ، گھر کی کفالت کرنے والی خواتین کے لیے بیمہ، خصوصی رخصتیں، اور اسی طرح کے دیگر بہت سے حقوق۔ یہ سب یقینی بنائے جانے چاہئیں۔"
انہوں نے خواتین کے بارے میں مزید اہم نکات بھی بیان کیے، جن کا خلاصہ یہ ہے:مرد اپنی بیویوں سے کہیں: "میں تم سے محبت کرتا ہوں۔" یہ عورت کا پہلا حق ہے، یعنی محبت کا حق۔
عورت کا ایک اہم حق گھریلو تشدد سے تحفظ ہے۔
گھر کی مدیریت اور نظم و نسق خواتین کے سپرد ہے؛ وہی گھر کی منتظم ہیں۔
خواتین کی تعلیم، ترقی اور مناسب پیشوں کے مواقع کھلے رہنے چاہییں۔
شہید رہبر نےمزید فرمایا:"اسلام میں عورت اپنی ترقی اور پیشرفت میں خود مختار ہے، اس کی اپنی شناخت، حیثیت اور شخصیت ہے۔ لیکن مغرب میں عورت کی شناخت شوہر کے تابع ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شادی کے بعد عورت اپنا خاندانی نام چھوڑ کر شوہر کا نام اختیار کرتی ہے؛ یہ بھی ایک علامت اور نشانی ہے۔"
یہ تمام اقتباسات رہبر معظم کی ایک ہی تقریر سے لیے گئے ہیں، اور خاص طور پر ان کی خواتین سے آخری ملاقات کی تقریر منتخب کی گئی ہے تاکہ یہ نہ کہا جا سکے کہ بعد میں ان کا موقف تبدیل ہو گیا تھا۔
ایک اور موقع پر انہوں نے فرمایا:"ایران کی تاریخ میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں عالم، مفکر اور صاحبِ فکر خواتین موجود نہیں تھیں۔ نہ صرف یہ کہ اس قدر تعداد پہلے نہیں تھی، بلکہ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں تھا، بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید سوواں حصہ بھی نہیں تھا۔ اسلامی جمہوریہ نے علمی ترقی کے ذریعے خواتین کو اس مقام تک پہنچایا کہ آج وہ علمی، سماجی، سیاسی اور ورزشی میدانوں میں دنیا کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔"
یعنی ان کے نزدیک خواتین کی ہر شعبے، حتیٰ کہ کھیلوں کے میدان میں بھی شرکت، ملک کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں اس طرزِ فکر کی مثال نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر اگرچہ پہلوی دور میں کشفِ حجاب کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز کی جاتی ہے کہ رضاشاہ خواتین کی آزاد انجمنوں کو سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دیتا تھا، جبکہ محمد رضاشاہ کے دور میں بھی خواتین کی بیشتر تنظیمیں شاہی دربار سے وابستہ تھیں اور انہیں آزاد سماجی کردار ادا کرنے کا موقع حاصل نہیں تھا۔
اسی بنا پر رہبر شہید ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں ایک منفرد شخصیت تھے، کیونکہ وہ خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ، بلکہ بعض پہلوؤں میں اس سے بھی زیادہ عزت اور اہمیت دیتے تھے۔
ان کے کردار سے متعلق ایک کم معروف مشاہدہ یہاں بیان کیا جا سکتا ہے۔ چند سال پہلے شہید آقا کی 70 فیصد یا اس سے زیادہ معذوری رکھنے والے جنگی جانبازوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہر ایک کےپاس جا کر انفرادی طور پر ان کی عیادت کرتے تھے۔ ہر موقع پر، بغیر کسی استثنا کے، وہ جانبازوں کی اہلیہ سے بھی ضرور گفتگو کرتے اور چند لمحے توقف کرتے تاکہ اگر وہ کچھ کہنا چاہیں تو اپنی بات پیش کر سکیں۔ اگر کوئی جانباز اپنی اہلیہ کو ساتھ نہ لایا ہوتا تو وہ ناراضی کا اظہار کرتے اور پوچھتے: "آپ اپنی اہلیہ کو ساتھ کیوں نہیں لائے؟" عموماً وہ جانباز کی خیریت بھی اس کی اہلیہ ہی سے دریافت کرتے تھے۔
عالمی مقابلوں میں شرکت کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی وہ نہایت نرم، شائستہ اور احترام آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کی یہ کامیابیاں اور تمغے حاصل کرنا صرف قومی افتخار ہی نہیں بلکہ دین کی بھی بہترین تبلیغ ہے۔
بعض افراد کے مطابق جو سرکاری عہدیدار ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے، رہبر شہید ایسے ذمہ داران پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے ۔اسی طرح جب ابوالفضل زرویی نصرآباد نے اپنے ایک طویل طنزیہ منظوم کلام میں یہ شعر پڑھا:
"ایک بات کہوں، امید ہے ناراض نہیں ہوں گے؛قربان ان دلوں پر جن میں صرف ایک ہی محبوب بستا ہے۔"
تو رہبر شہید کے چہرے پر مسرت کے آثار نمایاں ہو گئے اور انہوں نے فرمایا:"خدا ایک ہے، محبت ایک ہے اور یار بھی ایک ہونا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ